اسلام آباد(نیٹنیوز) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی انسانی حقوق کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سائبرکرائم ایکٹ کے غلط استعمال کا نوٹس لیتے ہوئے قانون پر نظرثانی کا اعلان کردیا، کمیشن برائے انسانی حقوق سے قانون میں ردوبدل کیلئے سفارشات مانگ لیں، اجلاس کے دوران بہادر بچے کا تذکرہ بھی ہوا جس پر بلاول نے کہا کہ رائو انوار جیسے لوگوں کے پیچھے اصل لوگ کوئی اور ہیں، ماورائے عدالت قتل صرف سندھ یا کراچی نہیں بلکہ ملک بھرمیں پھیل گئے ہیں، ایسے واقعات انکی عادت بن گئی ہے ، اب
وقت ہے کہ ضروری قانون سازی کرلی جائے ، انسانی حقوق پر آئندہ اجلاس کوئٹہ میں ہوگا۔ اس امر کا اظہار انہوں نے قائمہ کمیٹی انسانی حقوق کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ۔ اجلاس میں وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق سے متعلق قوانین کی تیاری میں بیوروکریسی کی وجہ سے رکاوٹیں ہیں۔ کمیٹی نے حکومت کو انسانی حقوق کے عالمی کنونشنز پر عملدرآمد کو تیز کرنے کی ہدایت کی ۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ آئین کا آرٹیکل19 شہریوں کی اظہار
رائے کی آزادی کی ضمانت فراہم کرتا ہے ، قائمہ کمیٹی اسکا تحفظ کریگی اور شہری آزادیوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونے دینگے ۔ بلاول بھٹو نے کہاکہ لاپتہ افراد کا معاملہ ملک بھر میں پھیل گیا ہے اس پر فوری قانون سازی کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اظہاررائے پر قدغن نہیں لگنے دیں گے ، میڈیا پر سنسرشپ قبول نہیں۔ بلاول بھٹو نے کہاکہ پیپلزپارٹی شروع سے ہی سائبر کرائم ایکٹ کی مخالف تھی ، قانون کا غلط استعمال ہمارے تحفظات کو درست ثابت کررہا ہے ،آئندہ اجلاس میں ایف آئی اے سربراہ کو طلب کرلیا
گیا۔ادھر قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے اجلاس وفاقی دارالحکومت میں جسمانی سزا کی ممانعت اور معذور افراد کیلئے ملازمتوں میں کوٹارکھنے سے متعلق دو بل منظور کیے گئے ۔ایچ ای سی کے بجٹ میں50فیصدکٹوتی کاانکشاف کیاگیا۔ دریں اثناہائوس اینڈ لائبریری کمیٹی کے اجلاس میں ارکان نے 104اضافی فیملی سوئیٹس اور سرونٹ کوارٹرز کی تعمیر میں غیر ضروری تاخیر پر شدید برہمی ظاہرکی گئی ۔
Free Palestine Free Palestine and all arabs