قاہرہ (ایمرا نیوز آن لائن) شوہر کیلئے بیوی کو مارنے کی اجازت سے متعلق اپنے بیان پر مصر کی درسگاہ جامعہ الازہر کے سربراہ الشیخ ڈاکٹر احمد الطیب نے وضاحت کردی، انہوں نے ایک بیان میں کہا تھا بیوی غلطی کرے تو اسے مارپیٹ کی جا سکتی ہے ،
سوشل میڈیا پر سخت تنقید کے بعد شیخ الازہر نے وضاحت کی کہ بیویوں کو مارنے کی مثال صرف علامتی ہے ، یہ مطلب نہیں کہ میرے بیان کے بعد خواتین کی مارپیٹ کی اجازت مل گئی ، رمضان المبارک کے حوالے سے ایک ٹی وی شو میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر احمد الطیب کا کہنا تھا خواتین کو جسمانی سزا دینے کی بات صرف علامتی ہے اور یہ آپشن وعظ ونصیحت میں ناکامی کے بعد صرف تہذیب سکھانے کیلئے علامتی طورپر استعمال کی جانی چاہیے ،
انہوں نے کہا جسمانی تشدد انسانی اعصاب پر بھاری گھنٹی کی طرح اثر کرتا ہے ، یہ سب خواتین کی اصلاح کے نقطہ نظر سے ہے ، تمام خواتین کو اس حوالے سے سیخ پا ہونے کی ضرورت نہیں، شیخ الازہر نے کہا بیوی کی مارپیٹ سے متعلق قرآن اور اسلامی تعلیمات میں ایسا کوئی تاریخی واقعہ یا حقیقت موجود نہیں،
اسلام اور قرآن احترام آدمیت کا درس دیتا ہے ، میرے بیان کا مقصد خواتین کو سزا دینا نہیں بلکہ انہیں وعظ ونصیحت کے ذریعے ٹھیک رکھنے کی راہ ہموار کرنا ہے ۔بیویوں کے معاملے میں ان پر تشدد کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے ۔
Free Palestine Free Palestine and all arabs