پشاور (میڈیا 92 نیوز آن لائن ) خیبر پختونخوا میں ڈاکٹرزکونسل کی جانب سے دی جانیوالی والی ہڑتال کی کال واپس لے لی گئی ہے ، حکومت کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد ڈاکٹرز نےگزشتہ کئی دنوں سے جاری ہڑتال ختم کرکے آؤٹ ڈور پیشمنٹ ڈیپارٹمنٹس اور دیگر طبی سروسز بحال کردی ہیں۔
ڈاکٹرز کونسل کی طرف سے کہا گیاہے کہ آج سے صوبے کے تمام اسپتالوں کی اوپی ڈیز کھول دی گئیں ہیں۔
گزشتہ شب ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کو حکومت اور ڈاکٹرز دونوں نے کامیاب قراردیاہے ۔مذاکرات میں طے پانے والے معاہدے کے مطابق ڈاکٹرز کے مسائل کو حل کرنے کے لئے دو کمیٹیاں بنائی جائنگی۔
ڈاکٹر ضیاء الدین کے مسئلہ پر کمیٹی کمشنر پشاور اور ہوم سیکریٹری کی سربراہی میں کمیٹی4 ہفتوں میں رپورٹ فائنل کرے گی۔ ۔محکمہ صحت خیبر پختونخوا کی طرف سے ڈاکٹرز کو جاری کیئے گئے شوکاز نوٹس واپس لینے کا اعلان کیا گیاہے ۔
ڈی ایچ اے اور آر ایچ اے پر مزید پیش رفت منسٹیریل کمیٹی سفارشات کے آنے کے بعد ہی ہوگی۔ کمیٹی میں خیبر پختونخوا ڈاکٹرز کونسل (کے پی ڈی سی) کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔
میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوشنز(ایم ٹی آئی) کے حوالے سے کمیٹی سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں سفارشات مرتب کرے گی ۔سیکیورٹی ایکٹ کو ضروری سفارشات کے ساتھ مکمل اتفاق رائے کے ساتھ اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
طے پانے والے معاہدے کے تحت ٹرانسفر پوسٹنگ کے حوالے سے تحفظاتی کمیٹی ڈاکٹرز کے تحفظات دور کرنے کے لئے سفارشات مرتب کرے گی۔
واضح رہے منگل کی شب وزیراعلیٰ ہاؤس میں ڈاکٹروں کے نمائندوں اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کے درمیان مذاکرات ہوئے جس میں صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی، چیف سیکرٹری، سیکریٹری ہیلتھ کمشنر پشاور اور وزیراعظم کے معاون خصوصی افتخار درانی اور خیبر پختونخوا ڈاکٹرز کونسل کے رہنماؤں نے شرکت کی۔
ڈاکٹرز کونسل اور حکومت کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے موقع پر وزیر اعلیٰ محمود خان نے ڈاکٹروں کے تمام مطالبات سنے اور انہیں یقین دلایا کہ حکومت ڈاکٹروں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا چاہتی ہے ان کو سہولیات دینا چاہتی ہے کیونکہ ڈاکٹر اسی معاشرے کا حصہ ہیں، ہمارے بچے ہیں ،ہمارے بھائی ہیں ،ہمارے بڑے ہیں اور میں چاہتا ہوں کے میری حکومت میں ڈاکٹروں کی عزت ہو، اسپتالوں میں غریب مریضوں کو علاج کی بہترین سہولیات میسر ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ایک معزز پیشہ ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ سرکاری اسپتالوں کو غریب عوام کے لئے بہترین سہولیات میسر ہوں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بدقسمتی سے جو واقعہ ہوا ہے اس پر افسوس بھی ہے اور یہ واقعہ ذاتی طور پر ہوا ہے اس لیے اس کو پختون روایت کے مطابق حل ہونا چاہیے۔
Free Palestine Free Palestine and all arabs