اسلام آباد (میڈیا 92 نیوز آن لائن ) وزیر مملکت برائے ریوینیو حماد اظہر مالی سال 20-2019 کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر رہے ہیں۔
بجٹ کے اہم نکات:
سول اور عسکری بجٹ میں کمی کا فیصلہ کیا ہے
سول بجٹ 460 ارب روپے سے کم کر کے 437 ارب روپے کر رہے ہیں
دفاعی بجٹ 1150 ارب روپے برقرار رہے گا
عسکری اداروں نے بجٹ میں کمی کا فیصلہ کر کے مثالی کردار ادا کیا
غربت کے خاتمے کے لیے راش کارڈ اسکیم شروع کرنے کا اعلان
قومی ترقیاتی پروگرام کے لیے 1800 ارب رکھے گئے
950 ارب روپے وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے رکھے گئے ہیں
دیامیر بھاشا ڈیم کی زمین کے حصول کیلئے 30 ارب اور مہمند ڈیم کیلئے 15 ارب روپے تجویز
کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 45.5 ارب روپے تجویز
وزیراعظم کے 50 لاکھ گھروں کے پروگرام سے 28 صنعتوں کو فائدہ ہوگا
کامیاب جوان پروگرام کے تحٹ 100 ارب روپے تک کے سستے قرض دیئے جائیں گے
اعلیٰ تعلیم کے لیے 45 ارب روپے تجویز کئے گئے ہیں
وفاقی کابینہ نے اپنی تنخواہوں میں رضاکارانہ 10 فیصد کمی کا فیصلہ کیا ہے
کم سے کم تنخواہ 17500 روپے کرنے کی تجویز کی گئی ہے
گریڈ ایک سے 16 تک کے تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کا اعلان
بی آئی ایس پی کا وظیفہ 5 ہزار روپے سے بڑھا کر 5500 کر دیا گیا
وفاقی بجٹ کا خسارہ 3560 ارب روپے رکھا گیا ہے
بجلی چوری کے خلاف مہم کے دوران چھ ماہ میں 80 ارب وصول کیے گئے
بجلی چوری کے خلاف مہم کے دوران چھ ماہ میں 80 ارب وصول کیے گئے
ترقیاتی بجٹ کے لیے 1800 ارب روپے مختص
دیامر بھاشا ڈیم کے لیے 20 ارب روپے مختص
داسو ہائیڈرو منصوبے اور مہمند ڈیم کے لیے 15، 15 ارب روپے
اعلیٰ تعلیم کے لیے ریکارڈ 43 ارب روپے مختص
زرعی شعبے کے لیے 12 ارب روپے
کراچی کے 9 ترقیاتی منصوبوں کے لیے 45.5 ارب روپے
عسکری بجٹ 1150 ارب روپے برقرار رہے گا
پینشن میں 10 فیصد اضافہ
وفاقی کابینہ کے ارکان کی تنخواہوں میں 10 فیصد کمی
مزدور کی کم از کم تنخواہ 7 ہزار 500 روپے
خشک دودھ، پنیر، کریم پر 10 فیصد درآمدی ڈیوٹی
اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں وزیر مملکت برائے ریوینیو حماد اظہر کا سالانہ بجٹ برائے مالی سال 20-2019 پیش کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جب حکومت ملی تو پاکستان کا قرضہ اور ادائیگیاں 31 ہزار ارب روپے تھیں اور 97 ارب ڈالر بیرونی قرضہ تھا۔
حماد اظہر کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو سال کے دوران اسٹیٹ بینک کے ذخائر 18 ارب ڈالر سے گر کر 10 ارب ڈالر تک رہ گئے تھے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بلند ترین سطح پر پہنچ چکا تھا۔
آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر کا معاہدہ ہو چکا ہے، بورڈ کی منظوری کے بعد اس منصوبے پر عمل درآمد شروع ہو جائے گا، معیشت کو استحکام حاصل ہو گا اور سالانہ ترقی کی شرح میں اضافہ ہو گا۔
سعودی عرب سے فوری ادائیگی کے بغیر3.2 ارب ڈالر کا تیل درآمد کرنے کی سہولت حاصل کی گئی، اسلامی ترقیاتی بینک سے فوری ادائیگی کے بغیر تیل درآمد کرنے کی سہولت شروع کر دی ہے۔
اس سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 7 ارب ڈالر اور اگلے سال ساڑھے چھ ارب ڈالر کی کمی آئے گی۔
وفاقی بجٹ کا کُل حجم تقریباً 6 ہزار 800 ارب روپے ہے، 34.6 فیصد شرح سے اضافے کے ساتھ پانچ ہزار 550 ارب روپے کے ٹیکس محصولات کا مشکل ہدف حاصل کرنے کیلئے متعدد نئے ٹیکس عائد کرنے اور 750 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگا نے کی بھی تجویز ہے۔
x
Free Palestine Free Palestine and all arabs