لاہور(عدنان بٹ سے )مقدمے کے اندراج میں تاخیر، ایڈیشنل سیشن جج نے ڈی جی اینٹی کرپشن سے جواب طلب کرلیا۔ای رجسٹریشن پراجیکٹ میں شناختی کارڈ کی تصدیق کی آڑ میں لینڈ ریکا رڈ انفارمیشن سسٹم میں تعینات کنٹریکٹ آفیسر کی جانب سے کی جانے والی 2ارب کی کرپشن کے ریکارڈ کی فراہمی سے انکاری اور ذمہ داران کے انکوائری میں پیش نہ ہونے کے سبب محکمہ اینٹی کرپشن میں زیر سماعت کیس لٹک گیا ،پی ایم یو میں کنٹریکٹ آفیسر کی بیرون ملک فرار ہونے کی اطلاعات نے معاملہ کو مزید سنگین اور گھمبیر کر دیا،تفصیلات کے مطابق محکمہ اینٹی کرپشن ہیڈکوارٹر میں 2سال سے مقدمے کے اندراج میں تاخیر برتنے پر ایڈیشنل سیشن جج اظہر اقبال رانجھا نے ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب بریگیڈئیر مظفر علی رانجھا کو ریکارڈ سمیت طلب کرلیا ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج اظہر اقبال رانجھا کی عدالت میں 22A,22Bکے تحت مقدمے کے اندراج کی استدعا کرتے ہوئے ایڈووکیٹ یوسف خان کاکڑ نے موقف اختیار کیا کہ صوبائی درالحکومت سمیت صوبے بھر میں جعلسازی دھوکہ دہی ، فراڈ کی مکمل طور پر روک تھام اور روبرو رجسٹری پاس کروانے کے لئے، رجسٹریوں کی سکیننگ اور ڈیٹا انٹری کے لئے ای رجسٹریشن کے نام سے شروع ہونے والے پراجیکٹ میں فروخت اور خرید کنندہ کے شناختی کارڈ کی تصدیق کے نام پر فی کس 100روپے خود ساختہ ٹیکس نافذ کرکے دو ارب سے زائد کی کرپشن کی گئی ، ای رجسٹریشن پروجیکٹ میں صرف روبرو ہونے والے افراد سے100روپے وصولی کی تجویز دی گئی تھی لیکن سابق پی ایم یو حالPLRA انتظامیہ کے آئی ٹی انچارج فیض الحسن نے لوکل کمیشن کی توسط سے آنے والی رجسٹریوں پر، وثیقہ نویسوں ، عام شہریوں اور وکلاء سے بھی پیسے بٹورنے کے لیے ان کو لائنوں میں کھڑا کر دیا احتجاج کی صورت میں ریونیو سٹاف کے پھڈوں کے نتیجے میں کئی کئی دن تک رجسٹریشن برانچیں بھی بند رہیں جبکہ اس ضمن میں سابق ڈی سی او نسیم صادق کے دور میں روبرو کے دوران رجسٹری پاسنگ کی تعداد میں کمی واقع ہونے پر ریونیو سٹاف اور نیشنل ڈیٹا ریکوری ایجنسی سے لی جانے والی سروس کے اخراجات پورے نہ کئی جانے کے سبب شناختی کارڈ تصدیق کیے جانے کا سلسلہ بند کر دیا گیا تھا ایجنسی نے بھی رقوم کی ادائیگی نہ ملنے پر سروس معطل کر دی بعد ازاں اس سروس کو بحال کرتے ہوئے اپنے ذریعے سے چلانے کی تمام تر ذمہ داری، اختیارات کے استعمال اور ملازمین کی تعیناتی بھی مذکورہ آئی ٹی انچارج کی ہدایت پر کی گئی ،بڑے پیمانے پر کی جانے والی کرپشن، اختیارات سے تجاوزجیسے اقدام اور غیر قانونی پریکٹس کی نشاندہی پر سابق سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو ندیم اشرف، رانا ثناء اللہ اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب نے فوری نوٹس لیتے ہوئے اس غیر قانونی پریکٹس کو ختم کرنے کے احکامات جاری کئے لیکن اس وقت تک چار ماہ کے عرصہ کے دوران پی ایم یو میں کنٹریکٹ کی بنیاد پر تعینات اور اس پراجیکٹ کے آئی ٹی انچار ج فیض الحسن نے جو رقم شناختی کارڈ کی تصدیق کی آڑ میں وصول کیں اس میں برائے نام رقم ڈی سی او کے اکاؤنٹ میں جمع کروا کر باقی رقم پر ہاتھ صاف کر لیے، ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب انور رشید نے پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ میں آئی ٹی انچارج فیض الحسن کی اس کرپشن کو نوٹس لے لیا اس ضمن میں اینٹی کرپشن ہیڈ کوارٹر میں انکوائری نمبر14/2015کے تحت مذکورہ آئی ٹی انچارج سمیت بڑے پیمانے پر وصول کی جانے والی اس رقم کے خرد برد میں ملوث باقی سرکاری اہلکاران کے تعین کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ، محکمہ اینٹی کرپشن میں جاری اس انکوائری میں اصل حقائق سے ہٹ کر آئی ٹی انچارج فیض الحسن کو تحفظ فراہم کرنے کے لئےPLRA کی جانب سے محکمہ ریونیو کی ایڈمنسٹریشن پر دبائو کے سبب ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن لاہور متعدد نوٹسز کے باوجود اس پراجیکٹ میں اکٹھی کی جانے والی رقم کا ریکارڈ فراہم کرنے سے لعیت ولعل سے کام لے رہی ہے جس کا واضح مقصد کسی نہ کسی طرح پراجیکٹ انچارج فیض الحسن اور اس کے ساتھ ملوث سرکاری اہلکاران کو بچانا ہے ، جس کے باعث یہ کیس ابھی تک کسی منطقی انجام تک پہنچنے کی جائے محکمہ اینٹی کرپشن اور ڈسٹرکٹ اٰٰیڈمنسٹریشن لاہور کے درمیان لٹکا ہوا ہے ،دوسری جانب ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ آئی ٹی انچارج فیض الحسن ملک سے فرار ہونے کی تیاریوں میں ہے ،ان اطلاعات نے محکمہ اینٹی کرپشن میں زیر سماعت اس کیس کو مزید الجھا دیا ہے۔ذرائع نے مزید انکشاف کیا ہے کہ PLRAکے آئی ٹی انچارج فیض الحسن کی تعیناتی کس نے کن مراعات پر کی ہیں یہ بھی ایک سوالیہ نشان بنا ہوا ہے کیوں کہ کسی کو نہیں معلوم ہے کہ مذکورہ آفیسر کا کنٹریکٹ پیریڈ کب شروع ہوا ہے اور کب ختم ہو گا،اینٹی کرپشن میں اتنی بڑی کرپشن کا کیس زیر سماعت ہونے کے باوجود PLRA کے افسران کی آشیرباد اور سپورٹ سے ابھی تک یہ اپنی سیٹ پر کام کر نے کے ساتھ پی ایم یو میں مزید بھرتیاں بھی کر رہا ہے، یہ سب کس کی اجازت سے ہو رہا ہے اس سوال کہ جواب نہ ہونے کی وجہ سےPLRAکا کردار بھی مشکوک ہو گیا ہے۔دوسری جانب ایڈیشنل سیشن جج نے-8-2017 29تاریخ تک کارروائی کرنے کیلئے محکمہ اینٹی کرپشن کو مہلت دے دی۔
Free Palestine Free Palestine and all arabs