لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی عدلیہ مخالف تقاریر نشر کرنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے پیمرا سے 12 ستمبر تک عملدرآمد رپورٹ طلب کرلی۔
لاہور ہائی کورٹ کے جج مامون رشید نے ایڈوکیٹ اظہر صدیقی کی درخواست پر عبوری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے نواز شریف کی عدلیہ مخالف تقاریر نشر کرنے پر پابندی عائد کی۔
جسٹس مامون نے پاکستان الیکٹرنک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کو ہدایت جاری کی کہ وہ اس فیصلے پر عملدرآمد رپورٹ آئندہ ماہ 12 ستمبر کو عدالت میں پیش کرے۔
سول سوسائٹی کی رکن آمنہ ملک نے ایڈووکیٹ اظہر صدیق کے توسط سے نواز شریف کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی درخواست جمع کروائی تھی۔
درخواست گزار کا موقف تھا کہ نواز شریف نے جی ٹی روڈ ریلی کے دوران سپریم کورٹ کے ججز کو تضحیک کا نشانہ بنایا اور اپنی نااہلی کو سازش قرار دیا۔
واضح رہے کہ گذشتہ ماہ 28 جولائی کو سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کیس کے حوالے سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ پر سماعت کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو بطور وزیراعظم نااہل قرار دے دیا تھا۔
نااہلی کے فیصلے کے بعد نواز شریف وزارت عظمیٰ کے عہدے سے سبکدوش ہوگئے تھے اور بعدازاں وزیراعظم ہاؤس خالی کرکے اپنے اہلخانہ کے ہمراہ 30 جولائی کو سیاحتی مقام مری روانہ ہوگئے تھے۔
ریلی کے دوران جہلم میں عوام سے خطاب کے دوران سابق وزیراعظم نے اپنی نااہلی کے فیصلے کو عوام کی عدالت میں پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’5 ججز نے کروڑوں عوام کے منتخب وزیراعظم کو ایک منٹ میں فارغ کردیا اور کروڑوں عوام کے ووٹوں کی توہین کی گئی’۔
اس کے علاوہ بھی مختلف مقامات پر اپنے مختصر خطاب کے دوران سابق وزیراعظم نے اپنی نااہلی کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
Free Palestine Free Palestine and all arabs