صفحہ اول / مختلف / اسرائیلی طیارے کی مبینہ اسلام آباد آمد، حکومت، سول ایوی ایشن کی تردید

اسرائیلی طیارے کی مبینہ اسلام آباد آمد، حکومت، سول ایوی ایشن کی تردید

اسلام آباد(نیٹ نیوز) مبینہ اسرائیلی طیارہ، اسرائیل کےدارالحکومت تل ابیب سے اُڑا، اردن کے دارالحکومت عمان سے ہوکر مبینہ طور پر پاکستان آیااوراسلام آباد ایئرپورٹ پر اُترا پھرمبینہ طور پر 10گھنٹے وہاں رک کر جہاں سے آیا واپس چلا گیا، اسرائیلی صحافی کے مذکورہ بیان سے سوشل میڈیا پر طوفان کھڑا ہوگیا جبکہ وفاقی حکومت اور سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے)نے اسرائیلی صحافی کے بیان کو مسترد کردیا،وزیر اطلاعات کا کہناہےکہ عمران خان نواز شریف نہیں، خفیہ مذاکرات مودی سے ہونگے نہ اسرائیل سے،پاکستان محفوظ ہاتھوں میں ہےجبکہ شاہ محمود قریشی نے طیارے سےمتعلق خبرکو لغو قرار دیا ہے،ادھر احسن اقبال کاکہنا ہےکہ دال میں کچھ کالاہے، فضل الرحمان کا کہنا ہےکہ حکومت پوزیشن واضح کرےجبکہ آصف زرداری نے کہا کہ اسرائیلی طیارے کی آمد کی میرے پاس کوئی اطلاع نہیں، مگر طیارہ آنا ناممکن بھی نہیں۔ تفصیلات کےمطابق اسرائیلی صحافی کے بیان پر لوگوں نے اس سے سوشل میڈیا پرسوالات بھی کیے، اسرائیلی صحافی نے ان سوالوں کے جواب دیے اور کہا کہ پاکستان میں ان کی ٹوئیٹس سے ہنگامہ برپا ہوگیا، انٹرنیٹ ویب سائٹ فلائٹ ریڈار ٹوئنٹی فور کے مطابق جہاز کی لوکیشن عمان سے سعودی عرب اور پھر خلیج عمان تک موجود رہی لیکن رات 11 بجے خلیج عمان سے ٹریکنگ غائب ہوگئی۔صحافی نےکہا کہ اس کے ایک گھنٹہ چالیس منٹ بعد جہاز اسلام آباد کی فضائی حدود میں 20 ہزار فٹ کی بلندی پر نظر آیا اور پھر ٹریک نظروں سے اوجھل ہوگیا، 10 گھنٹوں بعد اسلام آباد سے جہاز کا ٹریک ایک بار پھر سامنے آیا جو عمان کے راستے اسرائیل پہنچا۔ایوی شراف نے کہا کہ، اس بات کو بھی 100 فیصد حتمی نہیں کہا جاسکتا کہ جہاز نے اسلام آباد میں ہی لینڈنگ کی کیونکہ ویب سائٹ سے ٹریکنگ آتی جاتی رہی لیکن اگر آپ مسلسل شمال کی طرف جارہے ہیں تو 40 ہزار فٹ کی بلندی سے 20 ہزار فٹ پر آنے کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔ایوی شراف نے یہ بھی کہا کہ اس پرواز کا اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دورہ عُمان سے کوئی تعلق نہیں۔پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہےکہ کسی اسرائیلی طیارے کی پاکستان کے کسی بھی ایئرپورٹ پر آمد کی خبر میں قطعی کوئی صداقت نہیں کیونکہ ایسا کوئی طیارہ پاکستان کے کسی بھی ایئرپورٹ پر نہیں اُترا،حکومت کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری پیغام میں سول ایوی ایشن کے حوالے سے کہا گیا کہ ʼکسی اسرائیلی طیارے کی پاکستان کے کسی بھی ایئرپورٹ پر آمد کی افواہ میں کوئی صداقت نہیں۔سول ایوی ایشن کے بیان کے بعد اسرائیلی صحافی نے پھر ٹویٹر سنبھالا اور اپنے تازہ ٹویٹ میں اُس نےکہا کہ فلائٹ ریڈار کی ویب سائٹ جہازکی بلندی،لینڈنگ کی جگہ بتاسکتی ہے، پاکستان میں متجسس ذہن رکھنے والے خود پتا کرلیں۔ادھر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے اسرائیل سے خفیہ مذاکرات کی افواہوں کی تردید کرتے ہوئے احسن اقبال کی جانب سے وضاحت طلب کرنے پر کہا کہ عمران خان نواز شریف ہیں نہ ان کی کابینہ میں آپ جیسے جعلی ارسطو، مودی سے خفیہ مذاکرات کریں گے نہ اسرائیل سے،آپ کو پاکستان کی اتنی فکر ہوتی جتنی ظاہر کر رہے ہیں تو آج ہم ان حالات میں نہ ہوتے، اس لئے فکر نہ کریں، پاکستان محفوظ ہاتھوں میں ہے۔وزیراطلاعات کی ٹویٹ پر احسن اقبال نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت سے وضاحت طلب کی تھی لیکن وزیر اطلاعات آگ بگولہ ہوگئے لگتا ہے دال میں کچھ کالا ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نےملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےکہاکہ اسرائیلی طیارے کی پاکستان آمد کی خبر کی میڈیا اور سوشل میڈیا پر واضح تردید آچکی ہے، یہ خبرلغواوربے بنیادہےجس چیز کی حقیقت نہ ہو اس کا کیا جواب دینا۔پیپلزپارٹی کے شریک چیرمین اورسابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ʼمیرے پاس کوئی ایسی معلومات نہیں کہ کوئی اسرائیلی طیارہ پاکستان میں اترا ہے، اسرائیلی طیارے کی آمد کی میرے پاس کوئی اطلاع نہیں، مگر یہ نا ممکن نہیں ہےپیپلزپارٹی کی سینیٹرشیری رحمٰن نے کہا ہے کہ عالمی میڈیامیں اسرائیلی طیارےکی اسلام آبادآمد کی خبریں ہیں،اسرائیلی طیارہ 10 گھنٹےتک رکارہا، حقائق کیا ہیں؟قوم سےکیاحقائق چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے،انہوں نے کہ عمان سےآنے والے طیارے میں کون آئے؟قوم کواندھیرے میں رکھ کر کیے گئےفیصلے قبول نہیں کریں گے۔مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ حکومت اسرائیلی طیارے کی آمد پر وضاحت نہیں دے رہی، اسرائیلی طیارے کی آمد پر مکمل خاموشی ہے،حکومت پوزیشن واضح کرے، یہ ساری صورت حال بڑی گھمبیر ہے، اسرائیلی طیارہ پاکستان آیاہے، سوشل میڈیا میں اس پر بہت ہنگامہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں

The EMRA dated 29-6-2021