صفحہ اول / مختلف / 1987سے اب تک توہین رسالت کے 702 مقدمات ،62ماورائے عدالت قتل، 74فیصد واقعات پنجاب میں ریکارڈ

1987سے اب تک توہین رسالت کے 702 مقدمات ،62ماورائے عدالت قتل، 74فیصد واقعات پنجاب میں ریکارڈ

لاہور (نیٹ نیوز ) 1987ء میں توہین رسالت کا قانون بننے کے بعد اب تک اس الزام میں 702 مقدمات درج ہوئے ،62 افراد کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا جبکہ توہین رسالت کے 74فیصد واقعات پنجاب میں ریکارڈ ہوئے۔’’جنگ‘‘ کو ملنے والے مصدقہ ڈیٹا کے مطابق 1947ء سے لے کر 1987میں صرف 7افراد پر توہین رسالت کا الزام عائد کیا گیا جبکہ 1987ء میں توہین رسالت کا قانون بننے کے بعد سے اب تک 1335 افراد کے خلاف توہین رسالت کے الزامات عائد کئے گئے۔ 1947ء سے 1987ء تک 40 سال میں تو ہین رسالت کیسوں میں صرف 2 افراد ماورائے عدالت قتل ہوئے۔ 1987ء سے لے کر آج تک اقلیتوں کے خلاف توہین رسالت کے 702 کیسز رجسٹرڈ ہوئے جو کل درج ہونے والے 1335 کیسوں کا 52 فیصد ہیں۔ ان میں ہندوئوں کے خلاف 21، عیسائیوں کے خلاف 187، مسلمانوں کے خلاف 633 جبکہ قادیانیوں کے خلاف توہین رسالت کے 494 کیسز رجسٹرڈ ہوئے۔ توہین رسالت کے 74 فیصد کیسز پنجاب میں رجسٹرڈ ہوئے جن میں سے 173 کیسز کی تصدیق ہوسکی۔ ان میں سے 11فیصد کیسز لاہور سے شروع ہوئے۔ ماورائے عدالت اب تک مارے جانے والے 62 افراد میں سے 14 لاہور میں قتل ہوئے۔ توہین رسالت کیسوں میں ماورائے عدالت قتل ہونے والے لوگوں میں راشد رحمٰن، جسٹس (ر) عارف اقبال بھٹی، سابق وفاقی وزیر شہباز بھٹی، سابق گورنر سلمان تاثیر، ساون مسیح
(جسےہائیکورٹ سے بریت کے بعد عدالت کے احاطے میں قتل کردیا گیا)یوسف کذاب، گوجرہ میں جلائے جانے والے شمع اور سجاد مسیح وغیرہ شامل ہیں۔ پنجاب کی مختلف جیلوں میں بھی توہین رسالت کے متعدد مجرمان اور ملزمان قید ہیں۔ ڈسٹرکٹ جیل گجرات میں قید ندیم مسیح کے خلاف سرائے عالمگیر کے یاسر نے واٹس اپ پر توہین آمیز نظم بھیجنے پر 295سی کے تحت توہین رسالت کا مقدمہ درج کرایا ۔ اڈیالہ جیل میں قید برطانوی شہری اصغر کو نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے پر سزائے موت ہو چکی ہے۔ شیخوپورہ جیل میں نبی ہونے کا دعویٰ کرنے والے مجرم کو سزائے موت ہو چکی ہے ۔ راجن پور سے تعلق رکھنے والے بہائوالدین زکریا یونیورسٹی کے لیکچرار جنید حفیظ پر دفعہ 295سی کے تحت مقدمہ زیر سماعت ہے۔ وہ ڈسٹرکٹ جیل ساہیوال میں قید ہے ، اس پر فیس بک پر ملا منافق کے نام سے ایک گروپ بنانے اور یونیورسٹی میں توہین آمیز پمفلٹ بانٹنے کا الزام ہے ۔ایک رپورٹ کےمطابق صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب میں گزشتہ 7 سالوں کے دوران توہین رسالت سمیت دیگر توہین مذہب کے 1249 کیسز ریکارڈ کئے گئے جن میں سب سے زیادہ کیسز سرگودھا ڈویژن میں ہوئے جن کی تعداد 172 ہے، دوسرے نمبر پر گوجرانوالہ ڈویژن جہاں یہ تعداد 168 ہے، تیسرے نمبر پر فیصل آباد ڈویژن 157، چوتھے نمبر پر لاہور ڈویژن 145، پانچویں نمبر پر ملتان ڈویژن142، چھٹے نمبر پر ڈیرہ غازی خان ڈویژن 124،ساتویں نمبر پر بہاول پور ڈویژن 113، آٹھویں نمبر پر راولپنڈی ڈویژن 82 اور نویں نمبر پر ساہیوال ڈویژن 68اور دسویں نمبر پر شیخوپورہ ڈویژن 60تعداد ہے۔ جنگ کو ملنے والے پولیس ڈیٹا کے مطابق مذہبی جرائم کے کیسز تعزیرات پاکستان کی شق295سی (توہین رسالت )، 295(مذہبی مقامات کی توہین)، 295اے (کسی بھی مذہب کے متعلق نازیبا الفاظ استعمال کرنا) 295بی،(قرآن پاک کی توہین) اور 298 (مذہبی دل آزاری سے متعلق )کے تحت درج ہوتے ہیں۔ پولیس کی جانب سے مرتب کئے جانے والے ڈیٹا کے مطابق گزشتہ7 سالوں میں صوبے بھرمیں توہین رسالت 295سی کے تحت 82 مقدمات درج کئے گئے جبکہ دیگر دفعات 295 ،295اے، 295بی اور 298کے تحت 1094 مقدمات درج کئے گئے۔ مذہبی جرائم کے سب سے زیادہ کیسز 2014 ءمیں ہوئے جن کی تعداد 344 ہے جبکہ 2012 ءمیں 314، 2015 ءمیں 209، 2016 ءمیں 167، 2017ءمیں 126اور 2018 ءمیں 84کیسز ریکارڈ کئے گئے جبکہ 2013 ءمیں مذہبی جرائم کا ایک بھی کیس ریکارڈ نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھیں

کرسٹیانو رونالڈونےنیوکاسل یونائیٹڈ کودھول چٹادی

کرسٹیانو رونالڈو نے انگلش پریمیئر لیگ کی دوسری اننگ میں یادگار آغاز کیا اور اپنے …