لاہور(میڈیا پاکستان)پنجاب کا اہم منصب سینئر ممبر بورڈ پنجاب آج کل میوزیکل چیئر کا روپ دھارے ہوئے ہے ،دو دو تین تین ماہ کی تقرری اور تبادلوں کے باعث ہزاروں کیسز التواء کا شکار ہیں ،سائلین معمولی تنازعات کے حل کے لئے انتظار کی سولی پر لٹکے ہوئے ہیں اور سونے پر سہاگہ یہ کہ اعلیٰ افسران بھی اب ایس ایم بی آر تعینات ہونے سے کترانے لگے ہیں ،مبینہ طور پر ملنے والی معلومات کے مطابق پاکستان ایڈمنسٹریشن سروس تعلق رکھنے والے افسران اور صوبائی حکومت کے مابین سرد جنگ عروج پر پہنچ گئی ایک سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد بورڈ آف ریونیو پنجاب ادارے کے سربراہ کی تعیناتی کا معمہ حل نہیں کیا جاسکا ہے ،وقفے وقفے سے ہونے والی تعیناتیوں اور تبادلوں نے اہم منصب کی ذمہ داری کا ناصرف مذاق بنا دیا ہے بلکہ سینکڑوں کی تعداد میں جوڈیشلی کیسز ،ریکوری ،دفتری ڈسپلن اور لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن جیسے منصوبے کی نگرانی سے دھیان ہٹا رکھا ہے مزید معلوم ہوا ہے کہ سابق سینئر ممبر بورڈ آ ف ریونیو پنجاب ندیم اشرف دو سے تین سال کا عرصہ اس اہم منصب پر گزارنے میں کامیاب ہوئے اور ان کے ادوار میں ای سٹمپنگ ،لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن جیسے منصوبوں کی تکمیل ہوئی بلکہ پنجاب حکومت کے خزانے میں بھی ریکوری کی مد میں تاریخی ریکوری جمع کروائی گئی ،تاہم ان کی اچانک رخصتی کا اثر آج بھی بورڈ آف ریونیو دفاتر وں میں ظاہر ہو رہا ہے اور یہ سلسلہ بدستور جاری و ساری ہے جس کے بعد اس اہم منصب پر سابق کمشنرراولپنڈی اور موجودہ چیف سیکریٹری پنجاب کیپٹن (ر)زاہد سعید کو تعینات کیا گیا جو کہ صرف دو ماہ بعد ہی اس منصب کو خیر آباد کہہ کر بطور چیف سیکریٹری پنجاب تعینات کر دیئے گئے اس طرح اس منصب کا اضافی چارج چیف سیٹلمنٹ کمشنر پنجاب ڈاکٹر ثاقب عزیز کے سپرد کر دیا گیا جو کہ تین ماہ بعد وہ چارج ممبر کالونی جواد رفیق ملک اضافی طور پر سونپ دیا گیا جبکہ موجودہ حالات میں جواد رفیق ملک کو بھی اس اضافی چارج کی ذمہ داری سے سبکدوش کر کے چیف سیٹلمنٹ کمشنر ڈاکٹر ثاقب عزیز کو اس منصب پر اضافی کام کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے جو کہ بوجہ حج روانگی بورڈ آف ریونیو پنجاب ادارہ بغیر کپتان کے رواں دواں ہے، سینئر ممبر کے اس منصب سے آنکھ مچولی کے نتیجے میں صوبے بھر سے آنے والی عوام کو جہاں شدید مشکلات کا سامنا ہے وہاں دفتری ڈسپلن اور بورڈ آف ریونیو کے انتظامی معاملات بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں سینکڑوں کی تعداد میں جوڈیشلی کیسز التواء کا شکار ہو چکے ہیں جن پر فیصلے سنائے گئے ہیں ان کی اناؤسمنٹ نہیں کی جارہی ہے اور نہ ہی تحریری طور پر کوئی ہدائت جاری کی جارہی ہیں جس سے سائلین کو ریلیف مل سکے اس کے علاوہ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کی مانیٹرنگ کے حوالے سے بھی کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے ای سٹمپنگ پراجیکٹ کے حوالے سے بھی کوئی اہم میٹنگ نہیں کی جاسکی ہے ذرائع نے آگاہی دی ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی سخت گیری اورمزاج کے مطابق کام نہ کرنے والے افسران کے ساتھ سرزنش کا سلسلہ جاری ہونے کے سبب بھی اس اہم منصب پر موجودہ حالات میں کوئی بھی سینئر بیوروکریٹ کام کرنے کو تیار نہ ہے موجودہ حالات میں سینئر ممبر کے منصب پر تعیناتی کے حوالے سے سابق ایڈیشنل چیف سیکریٹری عامر سہیل ،موجودہ ایڈیشنل چیف سیکریٹری پنجاب خواجہ شمائل اور ڈاکٹر ثاقب عزیز چیف سیٹلمنٹ کمشنر کے نام بھی لئے جارہے ہیں اس ضمن میں ڈاکٹر ثاقب عزیز کو اضافی طور پر کام کرنے کی ہدائت بھی جاری کی جاچکی ہے تو دوسری جانب سینئر افسران ماتحت کلریکل سٹاف کی طرز پر کام کرنے کی بجائے صوبے پنجاب کو خیر آباد کرتے ہوئے وفاق میں جانے کو ترجیح دے رہے ہیں اور یہ بات بھی سامنے آچکی ہے کہ جن افسران کو صوبے پنجاب سے سرنڈر کرکے بھیجا جارہا ہے وفاق میں ان کو اتنے بڑے منصب پر تعینات کیا جارہا ہے ندیم اشرف ،کیپٹن (ر)زاہد سعیدکو بھی وفاق کی جانب سے اہم منصب دیئے گئے اور جواد رفیق ملک کو بھی وفاقی سیکریٹری ہیلتھ لگانے کی اطلاعات موصول ہو چکی ہیں تاہم بورڈ آ ف ریونیو کے ملازمین نے اپنے محکمہ کو لاوارث قرار دے دیا ہے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بعض افسران کا کہنا تھا کہ بورڈ آف ریونیو میں ڈسپلن ،انتظامی کام ،مانیٹرنگ ،کارکردگی اور بورڈ آف ریونیو کی اپنی شناخت بھی ختم ہو کر رہ چکی ہے موجودہ حالات میں ڈاکٹر ثاقب عزیز بطور سینئر ممبر بورڈ آ ف ریونیو پنجاب کے اس اضافی منصب پر مستقل ہو تے ہیںیا نہیں اوریہ عارضی تقرری کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا یہ آنے والے چند ماہ میں واضح ہو جائے گا ۔؛
Free Palestine Free Palestine and all arabs